افغانستان کے یوم آزادی پر دارالحکومت کے حساس اور سفارتی علاقے میں نامعلوم مقام سے 14 راکٹ برسائے گئے ہیں جس سے پورا علاقہ لرز اُٹھا۔
راکٹ حملے اتنے شدید تھے کہ پورا علاقہ لرز اُٹھا اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی جس سے درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ راکٹ حملے کا ہدف نامعلوم ہے تاہم ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے اور ریسکیو ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔دارالحکومت کے مختلف مقامات سے 24 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں سے 4 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق ملک بھر میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات جاری تھیں اور کابل میں صدر اشرف غنی کو سرکاری تقریب سے خطاب کرنا تھا کہ سفارتی علاقے پر راکٹ حملہ ہو گیا اور چند ہی منٹوں میں 14 راکٹ کابل کے ریڈ سیکیورٹی زون کے مختلف مقامات پر آکر لگے۔
افغان وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ملوث 2مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ راکٹ گاڑیوں میں نصب تھے اور شدت پسند چلتی گاڑی سے فائر کررہے تھے، تمام زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
طالبان سمیت کسی دہشت گرد تنظیم نے تاحال حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے بین الافغان مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں، افغان حکومت کی جانب سے 400 طالبان قیدیوں کے رہائی کے اعلان کے بعد مذکورہ حملے تشویش کا باعث ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں