بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطہ اور دنیا کے امن کے لیے مثالی کردار اداکیا۔ علاقائی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے۔
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی قیادت پاک چین لازوال دوستی کو مزید مستحکم اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت تعمیر کیے جانے والے منصوبوں کی بروقت اور تیزی سے تکمیل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کو بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اوربھارت کی ہندوتوا پالیسی سے آگاہ کیا جس سے خطے میں امن و سلامتی کوشدید خطرہ لاحق ہے ۔
دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے افغان مسئلہ میں تعاون کو موثر بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان انٹرا افغان مذاکرات شروع کرنے کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے باہمی امور پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے تائیوان، ژنگ جیانگ، تبت اور ہانگ کانگ کے معاملہ پر چین کی حمایت کا عزم کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اعلیٰ معیاری ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، سی پیک منصوبوں کی بر وقت تکمیل، معاشی اور سماجی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر دونوں ممالک کا اتفاق ہو گیا جبکہ دونوں ممالک نے سی پیک میں دیگر ممالک کی شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔
اعلامیہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز، صنعت،سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیکل،صحت، انسانی وسائل کی تربیت میں بھی تعاون پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے د رمیان جے سی سی کا 10 واں اجلاس جلد بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی کا کہنا تھا کہ چین ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہو۔وانگ ژیی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخ کا حل طلب تنازع ہے۔
یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے منشور،سلامتی کونسل کی قراردادوں سے حل ہونا چاہیئے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان امن و مفاہمی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ پاکستان نے خطہ اور دنیا کے امن کے لیے مثالی کردار اداکیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے خلوص نیت کے ساتھ اپنی مصالحانہ کاوشیں کیں، پاکستان شروع سے افغان مسئلے کے پرامن سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا آ رہا ہے۔ بین افغان مذاکرات کے انعقاد سے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام میں مدد ملے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت، پاک ۔ چین لازوال دوستی کو مزید مستحکم بنانے اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) فیز ٹو کے تحت طے شدہ منصوبوں کی بروقت اور جلد تکمیل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے مابین توانائی کے شعبے میں طے پانے والے 13 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں