دنیا میں سب سے پہلے کورونا پر قابو پانے والے ملک نیوزی لینڈ میں گزشتہ ہفتے کورونا کیسز کی نئی لہر کے بعد آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات مؤخر کر دیے گئے۔
نیوزی لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بنا تھا، جس نے مؤثر حکمت عملی کے باعث جلد ہی کورونا پر سب سے پہلے قابو پایا تھا اور جون میں وہاں کی حکومت نے کورونا کی وجہ سے عائد کردہ تمام پابندیاں ہٹادی تھی۔
نیوزی لینڈ نے مارچ میں کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد مؤثر حکمت عملی اپنائی تھی اور وہاں خطے کے دیگر ممالک سمیت کئی ممالک کے مقابلے کم کیسز سامنے آئے تھے۔
نیوزی لینڈ نے 9 اگست کو کورونا کو شکست دینے کے 100 دن مکمل ہونے پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا تھا، تاہم اس کے بعد وہاں کورونا کی نئی لہر دیکھی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن نے ملک میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
نیوزی لینڈ میں آئندہ ماہ 19 ستمبر کو عام انتخابات ہونا تھے جنہیں اب کورونا کیسز میں اضافے کے بعد 19 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے الیکشن قوانین کے مطابق ناگہانی حالات کے باعث تین ماہ تک عام انتخابات مؤخر کیے جا سکتے ہیں اور اب حکومت اور اپوزیشن کو یقین ہے کہ اکتوبر میں انتخابات آسانی سے منعقد ہوسکیں گے۔
اگرچہ نیوزی لینڈ کے الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ وہ سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ بھی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم آکلینڈ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت نے انتخابات کو مؤخر کردیا۔
آکلینڈ ملک کا سب سے گنجان آباد شہر ہے، جہاں پر 50 لاکھ افراد بستے ہیں اور وہاں لاکھوں رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جو لاک ڈاؤن ہونے کے باعث اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کرپاتے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ملک میں کورونا کے نئے سامنے آنے والے کیسز حیران کن ہیں جو تین ماہ کے دوران لوکل ٹرانسمیشن کے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ملک میں کورونا کے نئے کیسز سامنے آنے سے قبل حکومت نے نیوزی لینڈ کو کورونا فری قرار دیا تھا اور مارچ میں عائد کیے گئے لاک ڈاؤن کو مکمل طور ختم کردیا گیا تھا۔
عالمگیر وبا کورونا وائرس کے آغاز سے اب تک نیوزی لینڈ میں کورونا کے کل 1600 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور 22 ہلاکتیں ہوئیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں