اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کو عہدے سے برطرف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاقی وزیر کے بیان سے ملک کا نقصان ہوا تو ایکشن لینا وزیر اعظم کا اختیار ہے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کو عہدے سے برطرف کرنے کی درخواست پر سماعت آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں بینچ نے کی.
طارق اسد ایڈووکیٹ نے غلام سرور خان کی بطور وزیر برطرفی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے دوران سماعت کہا کہ 262 پائلٹس کے حوالے سے غلام سرور خان نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا اور ابھی پی آئی اے پر یورپ میں فلائیٹس پر 6 ماہ کی پابندی لگ گئی ہے۔
انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مؤقف اپنایا کہ اگر کسی کی ڈگری جعلی تھی تب بھی وزیر کو چاہیے تھا خفیہ انداز میں کارروائی کرتے لیکن ان کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے دنیا بھر میں ملک کی جنگ ہنسائی ہوئی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے غلام سرور خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے وفاقی وزیر کے خلاف ایکشن وزیر اعظم کا اختیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر کے بیان سے ملک کا نقصان ہوا تو ایکشن لینا وزیر اعظم کا اختیار ہے۔

Post a Comment

اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں

 
Top