پاکستان کی برآمدات بحال ہونے لگیں، رواں مالی سال کورونا کی وبائی صورتحال کے باوجود گزشتہ سال کی نسبت برآمدات کی شرح صرف 6.83 فیصد کم ہوئی ہے۔
برآمدات میں کمی سے پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر کافی حد تک متاثر ہوتے ہیں، لیکن کورونا کی وبائی صورتحال کے دوران بھی پاکستان کی برآمدات اس قدر کم نہیں ہوئیں جتنا سوچھا جا رہا تھا۔
بلکہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے نئی راہیں کھلی ہیں، جن میں این 95 ماسک، پی پی ایز اور دیگر طبی سامان شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان اشیاء کی برآمدات کے آرڈر سو ملین ڈالر سے زائد کے ہیں۔
پاکستان میں ٹیسٹائل کا شعبہ صنعت بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سب سے پہلے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو برآمدات کے آرڈر پورے کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
حکومت کے اس عمل کے باعث پاکستان کو دنیا بھر سے ہوزری، سپورٹس ویئر، بیڈ شیٹس، تولیہ اور طبی شعبے سے متعلق ملبوسات کے آرڈر ملنا شروع ہو گئے۔
پاکستانی ٹیکسٹائل ماسک اور سینیٹائزر کے بعد اب این 95 ماسک اور پی پی ایز بھی برآمد کر رہی ہے۔
بدلتے ہوئے موسم کے باعث کپڑے کے رکے ہوئے آرڈر بھی بحال ہونے لگے ہیں۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پچھلے 4مہینوں میں گزشتہ سال کے مقابلے 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پاکستان سے برآمد کی جانے والی مصنوعات میں ایک بڑا حصہ تولیہ اور لینن بیڈ کا تھا۔
کورونا کے عالمی معاشی بحران کے باوجود حالیہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 21 ارب 40 کروڑ ڈالر رہیں۔ جو کہ گزشہ مالی سال کی 22ارب 97 کروڑ ڈالر کی نسبت صرف6.83 فیصد کم ہے۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ انہیں عالمی معاشی بحران کے پیش نظر پاکستانی برآمدات کے بد ترین نتائج کا خدشہ تھا۔ لیکن اس معمولی کمی اور برآمدات کے شعبے کی بحالی پر برآمد کنندگان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں