سلام آباد: چیئر مین قومی ایئر لائن (پی آئی اے) ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے حوالے سے کسی دباؤ میں نہیں آئے، فول پروف انتظامات کے بعد یورپی یونین کے خدشات دور ہو جائیں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پائلٹس کے معاملے پر قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے سربراہ ایئر مارشل ارشد ملک نے اپنی رائے ظاہر کر تے ہوئے پورے ملک کے کارپوریٹ سی ای اوز کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
چیئرمین پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ ساری کارپوریٹ دنیا کی جانب سے پائلٹس کے معاملے پرآراء موصول ہورہی ہیں،کچھ سی ای اوزکے اصرار پر اپنی رائے دے رہا ہوں،پی آئی اے پابندی سے پہلے پی آئی اے 21 ممالک کیلئے اپنی پروازیں چلارہی تھی۔
سی ای او پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کمان سنبھالنے کے بعد ادارے کوخالصتاً کمرشل بنیادوں پرچلایا۔ پی آئی اے کے حوالے سے کسی دباوَمیں نہیں آئے۔ میرٹ کافروغ،نظم وضبط کاقیام،ذمہ داری اوراحتساب ہمارانسب العین تھے۔
ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پابندی سے پہلے پی آئی اے 21 ممالک کیلئے اپنی پروازیں چلارہی تھی۔ پی آئی اے نے امریکا، آسٹریلیا، افریقہ، جنوبی کوریا سمیت پوری دنیا میں اسپیشل پروازیں چلائیں۔ پہلی دفعہ تاریخ میں امریکا کے لیے پاکستان سے براہ راست پروازیں بھی چلائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جعلی لائسنسز، ڈگریوں کی تحقیقات 2018 سے پی آئی اے کی نشاندہی پر ہو رہی تھی۔ تحقیقات کے بعد مشکوک پائلٹس اور عملے کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز کے معاملے کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا تھا۔
سربراہ قومی ایئر لائن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ پورا عمل اپنی روح کے بالکل برعکس اور غلط رخ چلا گیا۔ معاملے کو غلط سمت لے جانے کی وجہ سے اب پی آئی اے دنیا میں دفاع کرتا پھر رہا ہے۔ اس سارے معاملے کی ذمہ داری ایک اور محکمے کی تھی۔
ارشد ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کو سول ایوی ایشن میں اصلاحات لانے کیلئے تجاویز دے رہے ہیں۔ امید ہے فول پروف انتظامات کے بعد یورپین یونین کےخدشات دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پی آئی اے کی مجروح ساکھ کی دیرپا بحالی کیلئے یہ عمل اشد ضروری ہے۔

Post a Comment
اگر آپ کو کچھ کہنا ہے تو ہمیں بتائیں